منگلورو:16؍دسمبر(ایس اؤ نیوز)جو کوئی اپنے مذہب کا بہتر مطالعہ کرتےہیں وہ کبھی دوسرے دھرموں کے متعلق غلط فہمی کے شکار نہیں ہوتے۔ دراصل عبادت گاہوں کے متعلق غلط تشہیر کی وجہ سے بہت ساری غلط فہمیاں پیدا ہونے کا منگلورو شانتی پرکاشن کے مینجر محمد کوئیں نے خیال ظاہر کیا۔
شہر کے پریس کلب میں ہائی لیانڈ اسلامک فورم (ایچ آئی ایف ) اور دکشن کنڑا ضلع ورکنگ جرنلسٹ اسوسی ایشن کے اشتراک سے منعقد ہ اخبارنویسوں سے خیر سگالی ملاقات پروگرام میں وہ اخبارنویسوں سے پوچھے گئے سوالات کی وضاحت کررہے تھے۔
عبادت گاہوں میں ہتھیارکی ذخیرہ اندوزی ،انہیں دہشت گردوں کا مرکز بتانے کی وجہ سے دھرموں کے درمیان بے اعتمادی پیدا ہونے کے متعلق اخبارنویس کی طرف سے پوچھے گئے سوال کی وضاحت کرتے ہوئے محمد کوئیں نے کہاکہ بہت ہی منصوبہ بند طریقے سے مساجد، مدارس کے متعلق غلط تشہیر کرتے ہوئے یہاں ہتھیار کی ذخیرہ اندوزی ،دہشت گردوں کو ترغیب دئیے جانے کی بات پھیلائے جانے سے دوسرے دھرم کے لوگوں میں شکوک و شبہات اور بے اعتمادی پیدا ہورہی ہے، ایسی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے ہی ملک بھر میں ’ مسجد درشن ‘ پروگرام منعقد کئے جارہے ہیں، جس کے ذریعے انہیں مسجد آنے کی دعوت دی جارہی ہے ،انہوں نے بتایا کہ مسجدمیں داخل ہونے کے لئے کوئی اصول وضوابط نہیں ہیں، صرف پیر دھوکر داخل ہوسکتے ہیں،انہوں نے کہاکہ جتنا مساجد اور مدارس کو بدنام کیاگیا ہے اتنا کسی اور دھرم کے مراکز کو نشانہ نہیں بنایاگیا ہے۔
محمد کوئیں نے کہاکہ انسانوں کی اصلاح مذہبی پیشوا، صوفی سنت، مہان ہستیوں کے پیغامات سے ہی ممکن ہے۔ایسا اصلاح کا پیغا م دینے کےلئے ہی حضرت محمد ﷺ آئے تھے، قرآن جو پیغام دیتاہے وہی پیغام حضرت محمد ﷺ ساری دنیا کے انسانیت کو دیا ۔ اپنے ہم جنس کے ساتھ جینے کا طریقہ ہی دھرم ہونے کاحضرت محمد ﷺ نے پیغام دیا تھا، اللہ کے نبی ﷺ نے انسانوں کو جینے کا طریقہ سکھایا۔ دوسرے دھرموں کے متعلق احترام کے جذبات ہونگے تو ہی ایمانداری کے ساتھ ہم دوسروں سے پیار ومحبت کرنا ممکن ہوگا۔ اسی لئے حضرت محمد ﷺ نے کبھی مذہبی طورپر اکسایا نہیں ۔ اس کے برعکس مذہبی شعور کی تعلیم دینے کا قرآنی حوالہ جات سے بات رکھی۔
انہوں نے بتایا کہ دکشن کنڑا ضلع میں بھی مرحلہ وار مساجد اور مدارس درشن پروگرام منعقد کئے جائیں گے۔ مذہبی کتابوں کی تفسیر وتشریح پیچیدگی کو راہ دینے کے سوال پر انہوں نے کہاکہ قرآن کی تفسیر کے متعلق کوئی پیچیدگی نہیں ہے، مساجد اور مدارس میں قرآن عربی یا اردو میں سکھایاجاتاہے، زبان کو لےکر پیچیدگی ہوسکتی ہے مگر حالیہ دور میں یہ بھی حل کے قریب ہے قرآن کے پیغام کو پھیلانے کاکام ہونے کی بات کہی۔
دکشن کنڑا ضلع ورکنگ جرنلسٹ اسوسی ایشن کے صدر شری نواس انداجے نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے کہاکہ معاشرے میں امن وامان ، بھائی چارگی اور مساوات کی بقا و تحفظ کے لئے ایسے پروگرام منعقد کرنے پر زور دیا۔ ہائی لیانڈ اسلامک فورم کے صدر اے کے ساجد موجود تھے۔ ایچ آئی ایف کے سابق صدر محمد رضوان نے نظامت کے فرائض انجام دئیے۔